میانمار حکومت نے بیرون ملک کام کرنے کے اجازت ناموں کا اجرا معطل کر دیا

میانمار کے فوجی حکمرانوں نے مردوں کو کام کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کے اجازت ناموں کا اجرا عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ بظاہر اسکی وجہ فوج میں جبری بھرتی سے بچنے کی کوششوں کا تدارک ہے۔

آزاد میڈیا اور میانمار میں جاپانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ فوج کے زیر کنٹرول وزارت محنت کے مطابق بدھ کے روز اجازت ناموں کی معطلی پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ وزارت نے نہ تو اس اقدام کی کوئی واضح وجہ بتائی اور نہ ہی یہ کہ معطلی کب تک جاری رہے گی۔

نفری کی کمی میانمار کی فوج کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ واضح رہے کی فوج نے تین سال قبل حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اسے جمہوریت کی حامی قوتوں اور نسلی نیم فوجی دستوں کے ساتھ شدید لڑائی کا سامنا ہے۔

فوجی حکومت نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو لازمی فوجی سروس انجام دینا ہو گی، جس کے بعد فوج نے شہریوں کو بلانا شروع کیا۔

تاہم اس اقدام کے سبب بہت سے نوجوان پڑوسی ملک تھائی لینڈ فرار ہو رہے ہیں یا جمہوریت نواز جنگجوؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین سفری پابندیاں جاپان کو متاثر کر سکتی ہیں، جہاں کچھ کاروباری ادارے اضافی افرادی قوت کے لیے تربیتی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ میانمار کا نیا اقدام ان مردوں پر بھی لاگو ہو گا جو تکنیکی تربیت لینے کے لیے جاپان جانا چاہتے ہیں۔