امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود برقرار

امریکہ میں مرکزی بینکرز نے قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش میں ہر حربہ آزمایا ہے۔ انہیں کچھ کامیابی تو ملی لیکن پھر افراط زر کے حوالے سے ان کی پیش رفت رک گئی۔ اب، انہوں نے سود کی شرح میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں نے شرح سود کو 20 سے زائد سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ تاہم، بدھ کے روز اپنے مسلسل چھٹے اجلاس میں انہوں نے شرح سود میں مزید کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پالیسی سازوں کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے حوالے سے ’’مزید پیش رفت نہیں ہو رہی‘‘ اور انہیں مزید پُراعتماد ہونے کی ضرورت ہے کہ افراط زر ’’پائیدار‘‘ طریقے سے اُنکے 2 فیصد کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اجلاس کے بعد واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول نے کہا، ’’میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جب ہمیں یہ اعتماد حاصل ہو جائے گا، تب شرح سود میں کمی پر غور کیا جائے گا اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کب ہو گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں کمی یقینی نہیں ہے۔

تاہم، پاول اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ معیشت میں ’’ٹھوس رفتار‘‘ سے نمُو ہوئی ہے اور ملازمتوں میں اضافہ ’’مضبوط رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسیوں کو بہت جلد تبدیل کرنے سے پیشرفت تہہ و بالا ہو سکتی ہے۔