جاپان ’زینوفوبک‘ ملک ہے: بائیڈن

ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے زینو فوبیا یعنی غیر ملکیوں کے لیے نفرت کو جاپان کے اقتصادی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ امریکی معیشت میں نمُو کی وجہ تارکین وطن کو قبول کیا جانا ہے۔

بائیڈن نے مبینہ طور پر یہ بیان بدھ کے روز واشنگٹن میں منعقدہ ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں دیا جو 2024 کے صدارتی انتخاب میں اُن کی دوبارہ کامیابی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بائیڈن نے کہا کہ امریکی معیشت میں نمُو کی ایک وجہ غیر ملکی تارکین وطن کو خوش آمدید کہنا ہے۔

بائیڈن نے مزید کہا، ’’چین کیوں بری طرح اقتصادی جمود کا شکار ہے؟ جاپان کو مسائل کا کیوں سامنا ہے؟ روس اور بھارت میں ایسے حالات کیوں ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے زینو فوبک ہیں۔ وہ تارکین وطن نہیں چاہتے۔ تارکین وطن ہی ہمیں طاقتور بناتے ہیں‘‘۔

امریکی میڈیا ادارے بلُومبرگ نے بھی بائیڈن کے بیان کو رپورٹ کیا ہے۔ بلُومبرگ کے مطابق ماضی میں صدر بائیڈن چین کے اقتصادی مسائل کو امیگریشن کو قبول کرنے میں اُسکی ہچکچاہٹ سے جوڑتے آئے ہیں، لیکن اس مرتبہ انہوں نے روس اور اپنے دیرینہ اتحادی جاپان کو بھی اس فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

بلُومبرگ نے نشاندہی کی، کہ بائیڈن نے سربراہ اجلاس اور ریاستی عشائیے میں جاپانی وزیراعظم کشیدا فومیو کا تین ہفتے قبل واشنگٹن میں خیرمقدم کیا تھا۔

اِس نے کہا ہے کہ بائیڈن کے ’’تنقیدی کلمات اور امریکہ کے دو بڑے حریفوں کے ساتھ جاپان کا ذکر کیا جانا ٹوکیو کی تشویش میں اضافہ کر سکتا ہے‘‘۔