جاپانی حکومت کا ٹاؤن انتظامیہ سے زیر زمین تابکار فضلے کے مقام کا سروے قبول کرنے کا مطالبہ

جاپان کے وزیر صنعت نے ملک کے مغرب میں واقع ایک قصبے سے کہا ہے کہ وہ انتہائی تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانے کی حتمی جگہ کا انتخاب کرنے کیلئے پہلے مرحلے کے سروے کو قبول کرے۔

یہ اقدام ساگا پریفیکچر کے گینکائی ٹاؤن کی اسمبلی کی جانب سے پہلے مرحلے کے سروے کو قبول کرنے کی اُس درخواست کی منظوری کے پانچ دن بعد سامنے آیا ہے جو تین مقامی تنظیموں نے پیش کی تھی۔

قانون کے تحت جوہری پلانٹس سے نکلنے والے تابکار فضلے کو تین سو میٹر سے زیادہ زیر زمین دفن کیا جانا ضروری ہے۔ ممکنہ حتمی ڈسپوزل سائٹس کا انتخاب کرنے کے لئے تین مراحل میں سروے کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

بدھ کے روز وزارت صنعت کے ایک سینئر عہدیدار نے وزیر کی جانب سے ایک مراسلہ گینکائی کے میئر واکی یاما شِنتارو کے حوالے کیا جس میں سروے کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

میئر نے کہا کہ وہ اسمبلی کی منظوری کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور وہ جواب پر غور کریں گے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب مرکزی حکومت نے کسی مقامی حکومت سے سروے کو قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس سے پہلے سال 2020 میں شمال میں واقع ہوکائیدو پریفیکچر کے ’’کامو اے نائی‘‘ گاؤں سے ایسی درخواست کی گئی تھی۔

پہلے مرحلے کا سروے مقامی حکومت کی درخواست پر، یا مرکزی حکومت کی جانب سے ایسا کیے جانے کی درخواست کی منظوری کے بعد کیا جاتا ہے۔

مرکزی حکومت سروے کیے جانے والے مقامات کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے کیونکہ تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے مقامات کا حصول، جاپان کی جوہری توانائی صنعت کے لیے بہت عرصے سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔