نوتو زلزلے کے چار ماہ بعد، 4600 افراد بدستور پناہ گاہوں میں

یکم جنوری کو ایشیکاوا پریفیکچر کے جزیرہ نما نوتو میں آنے والے طاقتور زلزلے کے چار ماہ بعد بھی 4600 سے زائد افراد پناہ گاہوں میں قیام پذیر ہیں۔

میگنی چیوڈ سات اعشاریہ چھ کے اس زلزلے کی شدت جاپان کے صفر سے سات تک کے زلزلہ پیما پر سات تھی۔ زلزلے سے 245 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

مجموعی طور پر 78,568 عمارات کو نقصان پہنچا۔ اِن میں سے دس فیصد سے زائد یا 8,142 مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

متاثرہ آبادیوں میں عارضی رہائش گاہوں کی تعمیر میں تیزی لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اپریل کے اواخر تک، 3،300 سے زیادہ ہاؤسنگ یونٹ تعمیر کیے جا چکے تھے- یہ پریفیکچر کی جانب سے ضروری تصور کی جانے والی تعداد کے نصف سے زائد ہے۔

اگرچہ عارضی رہائش گاہوں میں منتقل ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن 4،606 افراد اب بھی پناہ گاہوں میں رہائش پذیر ہیں۔

لگ بھگ تین ہزار سات سو اَسی گھرانے تاحال پانی سے محروم ہیں، جو زیادہ تر سُوزُو اور واجیما شہروں میں ہیں۔ اِس صورتحال کے باعث بہت سے انخلا کرنے والے گھروں کو واپس لوٹنے سے قاصر ہیں۔