شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا شدہ جاپانیوں کے اقارب کی مدد کیلیے اپیل

شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جاپانی شہریوں کے اقارب نے امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام سے بقیہ تمام مغویان کو واپس لانے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔ اغوا شدہ افراد کے رشتہ داروں نے جلد از جلد اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے کیونکہ ان کے معمر والدین کے پاس زندہ رہنے کے لیے اب بہت کم وقت بچا ہے۔

اس گروپ میں یوکوتا تاکُویا، جن کی ہمشیرہ میگُومی کو 1977 میں 13 سال کی عمر میں اغوا کیا گیا تھا، اور ایِزُوکا کواچیرو شامل ہیں، جو اپنی والدہ تاگُوچی یااےکو کے اغوا کے وقت ایک سال کے تھے۔

اس گروپ نے منگل کو واشنگٹن میں وزارت خارجہ کی شہری سلامتی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی معاون وزیر خارجہ عُذرا ضیا سے ملاقات کی۔ انہوں نے مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل سے متعلق امور کے نائب معاون وزیر خارجہ ڈینیئل کرِیٹن برِنک اور سینیٹر بِل ہیگرٹی سے بھی ملاقات کی، جو اس سے قبل جاپان میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔

جناب یوکوتا نے ان ملاقاتوں کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے حکام کو اپنی والدہ ساکی اے کی تصویر دکھائی ہے، اور ان سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغویان کے معمر ہونے والے والدین کے پاس اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے امریکی حکام کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، اور انہوں نے اغوا کے معاملے کو حل کرنے کے لیے جاپان اور امریکہ کی متفقہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔