چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز سمندر میں: چینی سرکاری میڈیا

چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اپنی پہلی سمندری آزمائش کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ طور پر امریکہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا اور تائیوان کی آنے والی حکومت پر دباؤ پڑے گا۔

چین کے سرکاری سینٹرل ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ فُوجیان بدھ کی صبح شنگھائی کے ایک شپ یارڈ سے روانہ ہوا۔

فوُجیان کی سمندر میں آزمائش سے متعلق یہ پہلی اطلاع ہے۔ اس جہاز کو 2022 میں لانچ کیا گیا تھا۔

فُوجیان ملک کے دو دیگر طیارہ بردار جہازوں سے بڑا ہے جو پہلے ہی زیر استعمال ہیں۔ یہ نیا بحری جہاز چین کے دیگر جہازوں کے مقابلے میں زیادہ ہوائی جہاز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجیان چین کا پہلا بحری جہاز ہے جو منجنیق نما آلات سے لیس ہے۔ برقی مقناطیسی توانائی سے چلنے والے یہ آلات اڑان بھرتے وقت طیارے کی رفتار تیز کر دیتے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ جہاز مختلف قسم کے طیاروں کے استعمال کو ممکن بنائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ فوجیان کو بحریہ کے مشرقی بیڑے کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے، جو تائیوان سمیت بحیرہ مشرقی چین کا ذمہ دار ہے۔ اس جہاز کی بحریہ میں باقاعدہ شمولیت سے پہلے بحری آزمائش کے چند حتمی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔