عرصہ دراز سے گمشدہ رِیُو کیُو بادشاہوں کی تصاویر میڈیا کے سامنے پیش

رِیُو کیُو سلطنت کے حکمرانوں کی تصاویر پریفیکچر کو واپس کیے جانے کے بعد پہلی بار میڈیا کو دکھائی گئی ہیں۔ یہ سلطنت جنوبی جاپان کے موجودہ اوکیناوا میں ہوا کرتی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں امریکی اور جاپانی افواج کے درمیان لڑی جانے والی اوکیناوا کی جنگ میں افراتفری کے دوران یہ تصاویر اور دیگر نوادرات لاپتہ ہو گئے تھے۔

گزشتہ سال امریکہ میں 22 اشیاء ملی تھیں جن میں ایک نقشہ، بخوردان اور ’’اوگوئے‘‘ نامی پورٹریٹ شامل تھے اور مارچ میں اوکیناوا پریفیکچر کے حوالے کیے گئے تھے۔

منگل کے روز دو پورٹریٹ سمیت اٹھارہ اشیاء میڈیا کو دکھائی گئیں۔

تقریبا 180 سینٹی میٹر لمبی اور اتنی ہی چوڑی ایک تصویر میں ایک بادشاہ کو سرکاری تقریبات کے لیے استعمال ہونے والا لباس اور تاج پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پریفیکچرل حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ریاست کے چوتھے بادشاہ ’’شوسے‘‘ کی ہے۔

ایک تقریب میں اوکیناوا کے گورنر تماکی ڈینی نے کہا کہ جنگ کے دوران پریفیکچر میں بہت سے قیمتی ثقافتی اثاثے آگ سے تباہ ہو گئے یا گم ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ نوادرات کی حالیہ واپسی اوکیناوا کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی خوشی اور حقیقتاً اہم ہے۔

جاپان میں امریکی سفارت خانے میں پبلک افیئرز کے منسٹر کونسلر فِلِپ روز کیمپ نے کہا کہ اُن کا ملک قیمتی ثقافتی اثاثوں کی واپسی میں کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید اشیاء دریافت ہوں گی۔