بلنکن کی اسرائیل اور حماس سے جنگ بندی کی اپیل

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل اور حماس کے مندوبین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے پیر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں کو بتایا کہ انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال میں "بتدریج بہتری آتی" دیکھی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور حماس کے ہاتھوں یرغمال افراد کی گھروں کو واپسی اس مسٔلے کا "زیادہ منصفانہ" حل ہو گا۔

جناب بلنکن غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی طرف سے ٹھوس اقدامات چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ حماس کے رہنما اسرائیلی تجویز کو قبول کریں جسے انہوں "غیر معمولی فراخدلانہ" پیشکش قرار دیا ہے۔ مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی تازہ ترین تجویز کی شرائط کو عام نہیں کیا ہے، لیکن میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تنازعے کے خاتمے کی غرض سے اسرائیلی حکام بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ جناب بلنکن نے کہا کہ "غزہ کی عوام اور جنگ بندی کے درمیان حائل واحد عنصر حماس ہے"۔