ڈبلیو ایچ او میں عالمی وبا کے معاہدے پر حتمی مذاکرات

عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، کے رکن ممالک نے کووڈ 19 کے تجربے کی بنیاد پر عالمی وبا سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ارکان نے ان مذاکرات کا آغاز دو سال قبل کیا تھا جس کا مقصد متعدی بیماریوں اور نئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی اقدامات کو مضبوط بنانا تھا۔

رکن ممالک کا مقصد مئی میں ڈبلیو ایچ او کی جنرل اسمبلی میں عالمی وبائی مرض کے اس معاہدے کو منظور کرانا ہے۔

معاہدے پر ملاقاتوں کے سلسلے کا فائنل راؤنڈ پیر کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ کوارٹر میں شروع ہوا، جس کی تفصیلات عام نہیں کی گئی ہیں۔ قبل ازیں معاہدے کے جاری کردہ مسودے میں ہر فریق پر قومی وبائی امراض سے بچاؤ اور صحت عامہ کی نگرانی کے جامع منصوبے تیار کرنے اور انہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے ہر فریق اضافی مالی وسائل مہیا کرے گا۔

معاہدے کے مسودے کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معلومات کو فروغ دینا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک میں ویکسین اور ادویات تیار کی جا سکیں۔

معاہدے میں تحقیق و ترقی کے اداروں اور مصنوعات سازوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ عالمی وبا کے دوران وبائی امراض سے متعلق صحت کی مصنوعات کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر رائلٹی کو کم یا ترک کر دیا جائے۔

باخبر ذرائع کے مطابق، ترقی پذیر ممالک کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ پیٹنٹ کے مالکان رائلٹی سے دستبردار ہو جائیں لیکن ترقی یافتہ ممالک کو اپنی دوا ساز کمپنیوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق تشویش لاحق ہے۔

دونوں فریقوں کا 10 مئی کو ہونے والے حتمی اجلاس سے قبل کسی معاہدے پر پہنچنے یا نہ پہنچنے کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے۔