شمالی کوریا پر پابندیوں کی نگرانی، اقوامِ متحدہ پینل کا اختیار روسی ویٹو کے بعد ختم

شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے پینل کا اختیار روس کی جانب سے ویٹو کے بعد منگل کے روز ختم ہو جائے گا۔

روس نے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد ویٹو کر دی تھی، جس کے تحت پینل کے اختیار میں توسیع ہونی تھی۔

اس پینل نے 2009ء میں قائم کیے جانے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا کہ پیانگ یانگ نے کس طرح پابندیوں سے بچ کر اپنے جوہری اور میزائل ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھا ہے۔ یہ پینل ہر سال دو بار رپورٹس جاری کرتا ہے۔

تازہ ترین دستاویز میں اقوامِ متحدہ کے ایک رُکن ملک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے 40 فیصد منصوبوں کو "غیرقانونی سائبر طریقوں" سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ پینل شمالی کوریا کی جانب سے روس کو ہتھیاروں کی مبینہ فراہمی کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس طرح کی منتقلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لِنڈا تھامس گرین فِیلڈ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ پابندیوں سے بچ نکلنے کی روکتھام کے لیے جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک نیا طریقۂ کار تشکیل دے گا۔

پینل کی ایک سابق رکن، تاکے اُچی مائِیکو نے این ایچ کے، کو بتایا کہ اُن کا خیال ہے کہ روس نے قرارداد کو اس لیے ویٹو کیا ہے کہ اُس کے لیے شمالی کوریا سے گولہ بارود درآمد کرنے اور دیگر کام کرنے کے لیے پابندیوں سے بچنے میں آسانی ہو۔