ین کے غیر مستحکم اتار چڑھاؤ سے منڈی میں مداخلت کی قیاس آرائیاں

ین، ڈالر کے مقابلے میں 34 سال کی نئی کم ترین سطح تک گر گیا، لیکن پیر کو تیزی سے بحال ہوا۔ غیر مستحکم اتار چڑھاؤ نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ جاپانی حکام نے کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی۔

جاپان میں قومی تعطیل کے باعث منڈی بند تھی۔ لیکن دیگر مقامات پر تجارت معمول کے مطابق ہوئی ہے۔

ایشیائی منڈیوں میں، ابتدائی طور پر ین کا لین دین 158 کی نچلی سطح پر ہوا اور پیر کی صبح اس کی قدر مزید گر کر اپریل 1990 کے بعد پہلی بار 160 ین فی ڈالر تک پہنچ گئی۔

تین گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد، ین 155 کی سطح پر واپس آ گیا۔

منڈی جائزہ کاروں کے مطابق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جاپانی حکومت اور بینک آف جاپان نے مداخلت کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے واپس خریدنے کے لیے سرمایہ کاروں کو چند مراعات دیئے جانے کے باوجود ین کی قدر میں اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی امور کے نائب وزیر خزانہ کاندا مَساتو نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

1999ء میں یورو بطور سنگل کرنسی متعارف ہونے کے بعد سے، یورو کے مقابلے میں بھی ین کچھ دیر کے لیے کم ترین سطح پر آیا۔