مغویان کے لواحقین حمایت کے حصول کے لیے امریکہ روانہ

شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا کیے گئے جاپانی شہریوں کے دو رشتہ دار اس مسئلے کے جلد حل کے لیے امریکی حکام کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔

یہ لواحقین، مغویان کے خاندانوں کے گروپ کے قائد یوکوتا تاکُویا اور اِیزُوکا کواِچیرو ہیں۔

یوکوتا تاکُویا، یوکوتا میگُومی کے چھوٹے بھائی ہیں جنہیں 13 سال کی عمر میں شمالی کوریائی ایجنٹوں نے اغوا کیا تھا۔

اِیزُوکا ایک سال کے تھے جب ان کی والدہ تاگُوچی یائےکو، کو شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے اغوا کر لیا تھا۔

ہفتے کے روز جاپان واپسی سے قبل دونوں کا، حکومتی عہدیداروں اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کے قانون سازوں سے ملاقات کرنے کا منصوبہ ہے۔

فروری میں، مغویان کے خاندانوں کے گروپ نے ایک ایکشن پلان مرتب کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر باقی تمام مغویان کو ان کے والدین کی زندگی میں واپس کر دیا جائے تو وہ جاپانی حکومت کی جانب سے شمالی کوریا پر سے پابندیاں ہٹانے کی مخالفت نہیں کریں گے۔

گروپ نے زور دے کر کہا کہ جاپانی حکومت ایکشن لے اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن فیصلہ کریں۔

یوکوتا اور اِیزُوکا سے توقع ہے کہ وہ نئی پالیسی کی وضاحت کریں گے اور مغویان کی جلد واپسی کے لیے امریکہ سے مفاہمت اور تعاون حاصل کریں گے۔

ٹوکیو کے ہانیدا ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یوکوتا نے کہا کہ ایک سال قبل کے ان کے دورہ امریکہ کے بعد سے کچھ بھی نہیں بدلا۔

انہوں نے کہا کہ اغوا ہونے والے افراد کے اہل خانہ اب بھی اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ ان کے پیارے واپس نہیں آئے، اور ان کی مشکلات کا سلسلہ جاری ہے۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ کم از کم 17 شہریوں کو 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے اغوا کیا تھا۔ ان میں سے پانچ، 2002 میں واپس آگئے تھے، لیکن باقی 12 اب تک لا پتہ ہیں۔