چینی وزیر اعظم کا ایلون مَسک سے ملاقات میں غیر ملکی کمپنیوں کی حمایت کا عزم

چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے اتوار کو دارالحکومت بیجنگ میں برقی گاڑی ساز امریکی کمپنی ’ٹیسلا‘ کے منتظم اعلیٰ ایلون مسک سے ملاقات کی۔ لی نے زور دے کر کہا کہ بیجنگ اُن غیر ملکی کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے جو چین میں کام کر رہی ہیں یا اس کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

بیجنگ میں وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے چین میں ٹیسلا کی سرگرمیوں کو امریکہ کے ساتھ ملک کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کی ایک کامیاب مثال کے طور پر سراہا۔

انہوں نے دو طرفہ تعلقات کی پائیدار اور مستحکم ترقی میں پیشرفت کے چین کے ارادے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چین کی وسیع مارکیٹ غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے ہمیشہ کھلی رہے گی۔ انہوں نے بہتر کاروباری ماحول کا وعدہ کیا تاکہ وہ ذہنی سکون کے ساتھ چین میں سرمایہ کاری کریں۔

اطلاعات کے مطابق، مَسک نے شنگھائی میں ٹیسلا کے کارخانے کو کمپنی کی بہترین کارکردگی کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کار ساز کمپنی چین کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی غرض سے اگلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں فریق مزید فوائد حاصل کر سکیں۔

امریکی اور یورپی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مسک سے چین میں فل سیلف ڈرائیونگ، یعنی ایف ایس ڈی، سافٹ ویئر متعارف کروانے پر بات کرنے کی توقع تھی۔

لی نے مَسک کے ساتھ اُس وقت بھی بات چیت کی تھی جب وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے شنگھائی کے اعلیٰ ترین عہدیدار تھے۔ ان دنوں، لی نے بیرون ملک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد کی، جس میں ٹیسلا کے لیے شنگھائی پلانٹ کی تعمیر کا معاہدہ بھی شامل تھا، جو کہ امریکہ سے باہر کمپنی کا پہلا پلانٹ ہے۔