فُوکُوشِیما دائی اِچی بجلی گھر کا آلودہ پانی چھٹے حصے تک کم ہو گیا

تباہ شُدہ فُوکُوشِیما دائی اِچی بجلی گھر کی منتظم کمپنی، ٹیپکو کا کہنا ہے کہ اُس نے آلودہ پانی کے بہاؤ کو روکنے کا اپنا ایک ہدف حاصل کر لیا ہے۔

اُس کا کہنا ہے کہ اب یومیہ پانی کی مقدار انتہائی دورانیے کے چھٹے حصے سے بھی کم ہے۔

مذکورہ بجلی گھر میں، 2011ء کے بڑے زلزلے اور تسُونامی کے بعد ہوئے تہرے پگھلاؤ کے بعد سے آلودہ پانی جمع ہوتا رہا ہے۔

پگھلے ہوئے جوہری ایندھن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی، بارش اور زمینی پانی کے ساتھ مل کر تباہ شدہ ری ایکٹر کی عمارات میں چلا جاتا ہے، جس سے آلودہ پانی پیدا ہو رہا ہے۔

بجلی گھر کی منتظم، ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال 2023ء میں روزانہ اوسطاً تقریباً 80 ٹن پانی جمع ہوتا تھا۔

سب سے زیادہ یومیہ مقدار مالی سال 2015ء میں 490 ٹن ریکارڈ کی گئی تھی۔

ٹیپکو کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ عمارات کے ارد گرد زمینی سطح کو کنکریٹ سے ڈھانپ کر، بارش اور زیرِ زمین کا پانی داخل ہونے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا گیا ہے۔

ٹیپکو تسلیم کرتی ہے کہ گزشتہ سال سالانہ بارش اوسط سے کم تھی، لیکن اُس نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس تنصیب میں بارش کی مقدار عمومی ہونے کی صورت میں بھی روزانہ جمع ہونے والے پانی کی مقدار 90 ٹن سے زیادہ نہیں ہوگی۔

حکومت اور ٹیپکو کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اس بجلی گھر کو ناکارہ بنانے کے طے شُدہ اوقات کے مقررہ اہداف میں سے ایک کو پورا کر لیا ہے، جو یہ ہے کہ آلودہ پانی کی یومیہ مقدار کو 2025ء تک 100 ٹن سے کم رکھا جائے۔

تاہم، پانی کو مکمل طور پر روکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔