جاپان کے کاروباری رہنما BOJ کے فیصلے کے بعد کمزور ین پر فکر مند

جمعہ کو ڈالر کے مقابلے میں ین کی قدر میں مزید کمی کے بعد جاپان میں کاروباری رہنماؤں نے ملک کے مرکزی بینک سے اسے درست کرنے پر زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ گراوٹ بینک آف جاپان (BOJ) کی جانب سے اپنی زر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کے فیصلے کے بعد آئی۔

BOJ نے مارچ میں بنائی گئی پالیسی پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا، جب اس نے قلیل مدتی شرحوں کو صفر سے 0.1 فیصد کی حد تک بڑھا دیا تھا۔ بینک کا کہنا ہے کہ وہ ہدف کو برقرار رکھے گا۔

BOJ کے گورنر اُوئیدا کازُوؤ نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ کمزور ین کا جاپان کی بنیادی افراط زر کی شرح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

انہوں نے اس خیال کا اعادہ کیا کہ فی الحال BOJ اپنی آسان زر پالیسی جاری رکھے گا۔

گورنر نے یہ بھی کہا کہ اگر مجموعی قیمتوں پر کمزور ین کا اثر ناقابلِ نظر انداز حد تک پہنچ جاتا ہے تو اسے زر پالیسی سے متعلق فیصلے کرنے میں زیر غور لایا یا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ان کے تبصرے کو ین کی قدر میں کمی کو محدود رکھنے کے لیے معنی خیز پیغام کے طور پر نہیں لیا گیا، اور سرمایہ کار ین فروخت کرنے پر مائل رہے۔

چونکہ ین 34 سال کی کم ترین سطح پر برقرار ہے، اسلیے سرمایہ کار حکومت اور BOJ کی جانب سے منڈی میں ممکنہ مداخلت سے متعلق محتاط ہیں۔