مذہبی عقائد کی بنیاد پر والدین کی بچوں سے بدسلوکی پر جاپان کا پہلا حکومتی سروے

جاپانی حکومت نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں اپنا پہلا سروے کیا ہے جو بچوں کے سرپرستوں کے مذہبی عقائد سے منسلک ہے۔ سروے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ستمبر سے لے کر 18 ماہ کے عرصے کے دوران ملک میں اس طرح کی بدسلوکی کے 47 واقعات ہوئے۔

چلڈرن اینڈ فیملیز ایجنسی نے یہ سروے بچوں کے مشاورتی مراکز، اسکولوں اور دیگر مقامات پر کیا۔ اس نے جمعہ کو نتائج جاری کیے۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کے 37 مشاورتی مراکز، یا کل کا تقریباً 16 فیصد، سروے کی مدت کے دوران سرپرستوں کے مذہبی عقائد سے منسلک بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات سے نمٹے۔ کیسز کی کل تعداد 47 تھی۔

مراکز نے کہا کہ ان میں سے 19 معاملات میں انہوں نے متاثرین کو عارضی طور پر حفاظتی نگہداشت میں رکھا۔

زیادہ تر معاملات میں متاثرین کو زبانی دھمکیاں دی گئیں اور انہیں خود فیصلہ کرنے سے روکا گیا۔ کچھ معاملات میں متاثرین کو دھمکانے کے لیے ویڈیو کلپس اور دیگر مواد بھی استعمال کیا گیا۔

بدسلوکی کی ایک اور عام شکل متاثرین کو عوامی طور پر یہ اعلان کرنے پر مجبور کرنا تھی کہ وہ کسی خاص مذہب پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں متاثرین کو مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ بعض صورتوں میں، سرپرست کی مذہبی سرگرمیوں میں شرکت بچے کی جانب سنگین غفلت کا باعث بنی۔

اٹھائیس افراد جنہیں مذہبی عقائد رکھنے والے سرپرستوں نے بدسلوکی کا نشانہ بنایا تھا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی یا انہیں سوالنامہ بھیجا گیا۔ ان میں سے تقریباً نصف نے کہا کہ وہ بدسلوکی کے بارے میں دوسروں سے مشورہ کرنے سے قاصر تھے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر ایسا ماحول پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ان بچوں کی جانب سے مدد لینے کے لیے سازگار ہو۔