جاپان میں موسم گرما کے بونس میں تقریباً 3 فیصد اضافہ متوقع

نجی محققین کو توقع ہے کہ جاپانی کمپنیاں اپنی بہتر آمدنی کی وجہ سے لگاتار تیسرے سال زیادہ سیزنل بونس ادا کریں گی۔

چار تھِنک ٹینکس کے اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم پانچ ملازمین والی کمپنیاں موسم گرما کی ادائیگیوں میں 2.9 فیصد سے 3.5 فیصد کے درمیان اضافہ کریں گی۔

یہ لگاتار تیسرا سالانہ اضافہ ہوگا، اور پچھلے سال کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوگا۔ وزارت محنت کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2023 میں ایک سال قبل کے مقابلے میں بونس میں دو فیصد اضافہ ہوا تھا۔

میزُوہو ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجیز نے اپنے تخمینے میں کہا ہے کہ مصنوعات ساز مضبوط امریکی معیشت اور بحال ہوتی ہوئی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کے باعث اپنے منافع میں اضافہ کر رہے ہیں۔

تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ غیر مصنوعات ساز شعبہ، جس میں خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں، باہر سے آنے والے سیاحوں کی وجہ سے زیادہ منافع کما رہا ہے۔ کارکنوں کی کمی کو زیادہ فراخدلانہ بونس کا ایک اور محرک سمجھا جا رہا ہے۔

میزُوہو نے نشاندہی کی ہے کہ موسم بہار کے سالانہ اجرت مذاکرات میں، طے شدہ تنخواہوں میں اضافہ ایک بڑا عنصر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسمی ادائیگیوں کا تعین عام طور پر بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔