ٹک ٹاک، پابندی کے قانون کو چیلینج کرے گی

ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی امریکی صدر جو بائیڈن کے دستخط کردہ قانون کو چیلنج کرے گی جس کے تحت امریکہ میں اس مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

امریکی سینیٹ نے منگل کو دونوں جماعتوں کے ووٹوں سے اس بل منظور کیا اور صدر بائیڈن نے بدھ کو اس پر دستخط کیے۔ اگر چینی آپریٹر، بائٹ ڈانس، نے 270 دنوں کے اندر ٹک ٹاک فروخت نہیں کی تو اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ بائیڈن اس ڈیڈ لائن میں 90 دن تک توسیع کر سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک کے سی ای او، شو زی چیو، نے ایک ویڈیو پوسٹ میں کہا کہ ’’بلا شک و شبہ یہ ٹک ٹاک پر پابندی ہے اور آپ اور آپ کی آواز پر قدغن ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ ہم عدالتوں میں آپ کے حقوق کے لئے لڑتے رہیں گے۔ حقائق اور آئین ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دوبارہ کامیابی حاصل ہوگی‘‘۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں اس ایپ کے سترہ کروڑ استعمال کنندگان ہیں۔

اس ایپ کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش ہے کہ یہ سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ چینی حکومت معلومات کے حصول کے لئے اس کا ناجائز استعمال کر سکتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس پابندی کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اِس سے اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔