جاپانی مشن تیسری بار قمری رات برداشت کر گیا

جاپان کے خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے چاند پر اپنے تحقیقی مشن کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کر لیا ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ خلائی جہاز تیسری بار چاند کی سرد رات سے بچ نکل آیا ہے۔

جاپان کی خلائی تحقیقی ایجنسی، جاکسا، کا کہنا ہے کہ منگل کی رات مواصلات بحال کر دی گئیں اور مشن نے چاند کی تصاویر بھی بھیجیں۔

اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون یا ’’ایس ایل آئی ایم‘‘ جنوری میں چاند پر اترا تھا جس کے بعد جاپان یہ کارنامہ انجام دینے والا پانچواں ملک بن گیا تھا۔

یہ تیسرا موقع ہے جب ایس ایل آئی ایم نے چاند کی ایسی رات کو برداشت کیا ہے، جس میں درجہ حرارت منفی 170 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ اسے اتنا کم درجہ حرارت سہنے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا۔ ایس آئی ایل ایم گزشتہ ماہ غیر فعال حالت میں چلا گیا تھا۔

جاکسا کا کہنا ہے کہ چاند گاڑی کے کچھ آلات مسائل کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث یہ تشویش تھی کہ آیا اُنہیں دوبارہ فعال کیا جا سکے گا یا نہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ہے کہ کلیدی آلات کے افعال کو ٹھیک کرکے مشن کو چاند کی سطح کی تصاویر بنانے اور ڈیٹا منتقل کرنے کے قابل بنا دیا گیا ہے۔

خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ چاند کے دن اور رات کس طرح چاند گاڑی کے ڈھانچے اور آلات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔