ناسا کے وائجر 1 سے ایک بار پھر ریڈایبل ڈیٹا موصول

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق پانچ ماہ کے قریب عرصے میں پہلی بار وائجر 1 خلائی جہاز سے ریڈایبل ڈیٹا موصول ہوا ہے۔ اس سے پہلے خلائی مشن کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

ناسا کے اعلان کے مطابق، اس مشن کی فلائٹ ٹیم کو ہفتے کے روز خلائی جہاز سے سگنل موصول ہوا ہے۔

سن 1977 میں وائجر 1 کو مشتری اور زحل پر تحقیق کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ مشن نے مشتری کی سطح اور زحل کے حلقوں کے نمونوں کی واضح تصاویر بھیجتے ہوئے خلا میں دلچسپی رکھنے والے بہت سے افراد میں جوش و خروش پیدا کیا تھا۔

وائجر 1 نظام شمسی سے الگ ہو کر اب زمین سے تقریباً 24 ارب کلومیٹر دور سفر کر رہا ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی کسی اور چیز کے مقابلے میں یہ اب زمین سے سب سے زیادہ دوری پر ہے۔

اگرچہ اس مشن نے تحقیق کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی ترسیل جاری رکھی تھی، لیکن ایک کمپیوٹر سسٹم میں خرابی کی وجہ سے گزشتہ نومبر میں ریڈایبل ڈیٹا واپس بھیجنا بند کر دیا تھا۔

ٹیم کے مطابق ریڈیو کے ایک سگنل کو وائجر 1 تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 22 گھنٹے لگتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سگنل کو زمین پر واپس آنے میں مساوی وقت لگتا ہے۔

ٹیم کے ارکان میں شامل ڈاکٹر لنڈا سپِلکر نے این ایچ کے سے بات کرتے ہوئے خلائی جہاز کے ساتھ مواصلاتی رابطہ ایک بار پھر بحال ہونے پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ محترمہ سپِلکر نے کہا، "یہ کیفیت طویل عرصے بعد دیرینہ دوست سے ملنے کے مترادف ہے"۔