فُوکُوشِیما دائی اِچی کے پانی کو سمندر میں چھوڑنے کا دوسرا آئی اے ای اے معائنہ شروع

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے کے ماہرین کی ایک ٹیم تباہ شدہ فُوکُوشیما دائی اِچی جوہری بجلی گھر سے صفائی کے عمل سے گزارے گئے اور کثافت کم کردہ پانی کو سمندر میں چھوڑنے کا معائنہ کرنے کیلئے جاپان کے دورے پر ہے۔

آئی اے ای اے ٹاسک فورس، گزشتہ سال اگست میں مذکورہ پانی سمندر میں چھوڑنے کے عمل کے آغاز کے بعد دوسری مرتبہ حفاظتی جائزہ لے رہی ہے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور چین سمیت، ممالک کے ماہرین نے منگل کے روز ٹوکیو میں وزارتِ خارجہ کا دورہ کیا۔

اُنہوں نے وزارتِ صنعت اور فُوکُوشِیما جوہری بجلی گھر کی منتظم، ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے حکام سے ملاقات کی۔

آئی اے ای اے کے رابطہ کار گُستاوو کارُوسو نے کہا کہ ماہرین اُن تکنیکی موضوعات پر چھان بین جاری رکھنے کیلئے فُوکُوشِیما دائی اِچی بجلی گھر کا دورہ کریں گے جو حفاظت کے لیے اہم ہیں۔

اُنہوں نے کہا، "یہ آزاد، معروضی اور سائنس پر مبنی طرزِ نظر جاپان اور دوسرے ملکوں میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دے گا"۔

ٹاسک فورس کے ارکان جمعہ کے روز تک جاپان میں قیام کریں گے۔ وہ پانی کے اخراج کے عمل کو دیکھنے اور جوہری نگران ادارے و دیگر تنظیموں کے حکام سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فُوکُوشِیما دائی اِچی بجلی گھر 2011ء کے زلزلے اور تسُونامی میں تہرے پگھلاؤ سے متاثر ہوا تھا۔

پگھلے ہوئے ایندھن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی، بارش اور زمینی پانی میں ملتا رہا ہے۔ جمع شدہ پانی میں سے بیشتر تابکار مادوں کو ختم کرنے کے لیے اُسے صفائی کے عمل سے گزارا جا رہا ہے، لیکن پھر بھی اس میں ٹریٹیم موجود ہے۔

مذکورہ بجلی گھر کی منتظم کمپنی، صفائی کے عمل سے گزارے گئے پانی کو سمندر میں چھوڑنے سے پہلے ٹریٹیم کی سطحوں کو پینے کے پانی کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی رہنماء سطح کے تقریباً ساتویں حصے تک کم کرنے کے لیے اس کی کثافت کم کرتی ہے۔