ملکی رہنما کِم نے 'سپر لارج راکٹ لانچرز' کی مشقوں کا مشاہدہ کیا: شمالی کوریا

شمالی کوریا کے مطابق، ملکی رہنما کِم جونگ اُن نے پیر کے روز جوہری جوابی حملے کے مفروضے کی بنیاد پر کی جانے والی فائرنگ کی مشقوں کی نگرانی کی ہے۔ اس مشق میں "سپر لارج راکٹ لانچرز" کا استعمال شامل تھا۔

منگل کو حکمران ورکرز پارٹی کے اخبار رودونگ سِنمُن نے چار موبائل لانچرز سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ 600 ایم ایم راکٹوں سے 352 کلومیٹر دور جزیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سپر لارج راکٹ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل باور کیا جاتا ہے جو ٹیکٹیکل نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے پیر کے روز پیانگ یانگ کے قریب ایک مقام سے بظاہر کم فاصلے تک مار کرنے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی مشقوں کا مقصد کُنسان ایئر بیس پر امریکی اور جنوبی کوریائی افواج کی مشترکہ تربیتی مشقوں کا جواب دینا ہے۔ جنوب مغربی جنوبی کوریا میں واقع یہ مرکز شمالی کوریا کے راکٹوں کی دعویٰ کردہ حد کے اندر واقع ہے۔