عالمی سطح پر فوجی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ

سویڈن کے ایک تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ 2023 میں عالمی فوجی اخراجات میں مسلسل نویں سال اضافہ ہوا ہے اور یہ رقم 1998 سے اِس ادارے کی جانب سے ریکارڈ رکھنا شروع کرنے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پیر کے روز جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں فوجی اخراجات مجموعی طور پر24 کھرب 43 ارب ڈالر ہیں۔ یہ رقم ایک سال قبل کے مقابلے میں 6.8 فیصد زیادہ ہے۔

امریکہ 916 ارب ڈالر خرچ کرکے فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 2.3 فیصد زیادہ ہے۔ چین ایک اندازے کے مطابق 269 ارب ڈالر کے اخراجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور یہ 6 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے بعد روس کا نمبر آتا ہے جس نے اپنے فوجی اخراجات میں 24 فیصد اضافہ کر کے، اِسے اندازاً 109 ارب ڈالر کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ، ایشیا اور اوشینیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یوکرین آٹھویں نمبر پر ہے، جس کے فوجی اخراجات51 فیصد اضافے کے ساتھ 64 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی کے دوران اسرائیل کے فوجی اخراجات 24 فیصد اضافے کے ساتھ 27 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاپان اور تائیوان نے اپنے دفاعی اخراجات میں گیارہ گیارہ فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آنے والے سالوں میں اس رجحان میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے کیونکہ اُنہیں چین سے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ فوجی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ عالمی سطح پر امن و سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا براہ راست ردعمل ہے۔