کنسرٹ ہال حملے کے ایک ماہ بعد روس میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ

پیر کو ماسکو کے قریب ایک کنسرٹ ہال میں ہونے والے جان لیوا دہشت گردانہ حملے کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، روسی حکومت حفاظتی اقدامات سخت کر رہی ہے، جن میں بظاہر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شامل ہے۔

22 مارچ کو ہونے والے اس واقعے کی وجہ سے 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ روس میں دو دہائیوں میں ہونے والا سب سے مہلک دہشت گردانہ حملہ تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ گروپ اس حملے کا ذمہ دار ہے۔ چار تاجک شہریوں پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

روس میں کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دہشت گردی سے خطرہ محسوس کرتی ہے۔

بہت سے لوگوں نے وسطی ماسکو میں NHK کے عملے سے کہا کہ حکام کو وسطی ایشیائی تارکین وطن کے خلاف اقدامات کو سخت کرنا چاہیے۔ ایک خاتون نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پولیس ان کی نگرانی کرتی رہے۔

وزارت داخلہ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ اس نے ماسکو میں تعمیراتی مقامات سمیت 10,000 سے زائد جگہوں پر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔