ٹوکیو LGBTQ ایونٹ میں امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ

جاپان کے سب سے بڑے LGBTQ ایونٹ میں سے ایک کے شرکاء نے اتوار کے روز ٹوکیو کے شیبویا علاقے کی سڑکوں پر پیدل مارچ کیا۔

جنسی اقلیتی افراد اور ان کے حامیوں نے، تنوع کی علامت قوس قزح کے رنگ کے جھنڈے اٹھا کر انہی رنگوں کے لباس پہن ہوئے تھے اور مارچ کرتے ہوئے "ہیپی پرائیڈ" کے نعرے لگا رہے تھے۔

"پرائیڈ پریڈ" کا مقصد جنسی اقلیتوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور امتیازی سلوک یا تعصب کو ختم کرنا ہے، اور اس کا انعقاد پہلی بار 1994 میں کیا گیا تھا۔ ایونٹ کی منتظم، ٹوکیو رینبو پرائیڈ نے بتایا کہ اتوار کی پریڈ میں تقریباً 15,000 افراد نے حصہ لیا۔

مقامی حکومتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ہم جنس شراکت کو شادی کے برابر تسلیم کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔

قومی سطح پر، ایک قانون جو LGBTQ کمیونٹی کی تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے، پچھلے سال نافذ ہوا۔

جاپانی معاشرے میں LGBTQ کمیونٹی کے بارے میں ادراک اگرچہ آہستہ آہستہ پھیلا ہے، لیکن اب بھی کچھ ایسے افراد ہیں جنہیں اپنی زندگی مشکل لگتی ہے۔

شریک سربراہ برائے ٹوکیو رینبو پرائیڈ، سُوگی یاما فُومِینو نے کہا کہ اگرچہ LGBTQ کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے، تاہم قانونی ڈھانچے کی تیاری مسئلہ بنی ہوئی ہے۔