جاپان کی جانب سے 2030ء تک ایٹمی پابندی معاہدے کی توثیق نئی تنظیم کا مقصد

جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کیلئے جاپان میں قائم کردہ ایک نئی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ جاپان کی جانب سے 2030ء تک جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی توثیق کے حصول کو مقصد بنائے گی۔

جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے جاپان مہم نامی اس تنظیم نے جو رواں ماہ کے شروع میں قائم کی گئی ہے، ہفتے کے روز ٹوکیو میں اپنے افتتاح کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی۔ یہ تنظیم 20 سے زائد گروپوں اور افراد پر مشتمل ہے، جن میں ایٹمی بمباری میں بچ جانے والے لوگ اور نوجوان شامل ہیں۔

جاپان کنفیڈریشن برائے ایٹم اور ہائیڈروجن بم متاثرین یا نِیہون ہِدانکیو کے شریک چیئرپرسن تاناکا تیرُومی اس نئی تنظیم کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومتِ جاپان پر زور دیا کہ وہ جوہری پابندی کے معاہدے کی توثیق کرے اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کی قیادت کرے۔

تاناکا نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ حکومت کو متحرک کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کریں۔

جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بین الاقوامی مہم، ICAN، کے کاواساکی آکیرا اس جاپانی تنظیم کے ایک اعلیٰ رکن ہیں۔ آئِیکین نے 2017ء کا نوبل امن انعام جیتا تھا۔

کاواساکی نے کہا کہ جاپانی تنظیم کی سرگرمیوں میں، حکومتی عہدیداروں اور ارکانِ پارلیمان کے ساتھ رابطے شامل ہوں گے تاکہ جاپان جلد از جلد 2030ء تک جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی منظوری دیدے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تنظیم عوامی تقریبات کا انعقاد کرے گی اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے رفتار بڑھانے کے لیے کاروباری اداروں کے پاس جائے گی، اور یہ کہ تنظیم، جوہری ہتھیاروں کی غیرانسانی نوعیت پر بات چیت کے لیے اگلے سال شہریوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔