عراق میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی بغداد کے جنوب میں اڈے پر دھماکے کی اطلاع

عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کا کہنا ہے کہ بغداد سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب میں ایک فوجی اڈے پر دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

پاپولر موبلائزیشن فورسز، یا پی ایم ایف نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر یہ اعلان کیا۔ ملیشیا "Axis of Resistance" یعنی ’مزاحمت کا محور‘ کا حصہ ہے، جو مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسند گروپوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ہسپتال کے دو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی ایم ایف کا ایک جنگجو ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔

پی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایک ٹیم دھماکے کی وجہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ دھماکہ خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس سے آگاہ ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے عراق میں فضائی حملہ کیا ہے لیکن یہ رپورٹس "درست نہیں ہیں"۔

سی این این کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حکام دونوں نے دھماکے سے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔

جمعے کو ایران کے وسطی صوبے اصفہان میں بھی متعدد دھماکے ہوئے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ حملے تہران کی جانب سے کئی روز قبل اسرائیل پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے کے جواب میں کیے ہیں۔