معلومات

کورونا وائرس پر سوال و جواب

نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے سامعین کے ذہنوں میں بہت سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔ این ایچ کے، کے ماہرین اس بارے میں سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

سوال نمبر 1: کورونا وائرس کیا ہے؟
سوال نمبر 2: ہمیں وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے؟
سوال نمبر 3: کرونا وائرس سے حاملہ خواتین کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟
سوال نمبر 4: کپڑوں کو وائرس سے کیسے پاک کیا جائے؟
سوال نمبر 5: کورونا  وائرس  کا انفیکشن ہونے کے بعد کیا علامات ہوسکتی ہیں؟ 
سوال نمبر 6: وائرس سے متاثر ہونے پر کن افراد میں شدید علامات پیدا ہوتی ہیں؟
سوال نمبر 7: کیا بچے کورونا وائرس سے شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟
سوال نمبر 8: کیا جاپان نے کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے کوئی موثر دوا بنائی ہے؟
سوال نمبر 10: ہم کن حالات میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انفیکشن ختم ہو گیا ہے؟
سوال نمبر 11: کیا صابن اور الکوحل کے ایک جیسے جراثیم کش اثرات ہوتے ہیں؟
سوال نمبر 13: 2003 میں سارس نامی وائرس پھیلنے کے دوران، ہم نے سنا ہے کہ نالیوں سے پھوٹنے والے گندے پانی کے ذریعے وائرس پھیلنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم سارس کورونا وائرس سے مشابہت رکھتی ہے۔ تو آج کا سوال ہے، کیا نیا کورونا وائرس بھی گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟
سوال نمبر 14: کیا کورونا وائرس سے نوجوان افراد شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟
سوال نمبر 15: کیا یہ وائرس چینی شہر ووہان، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں تغیر پذیر ہو رہا ہے۔
سوال نمبر 16: ایویگان نامی دوا کورونا وائرس کے علاج میں کتنی مؤثر ہے؟
سوال نمبر 17: ہنگامی حالت کا اعلان ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
سوال نمبر 18: ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کیا ہوتا ہے؟

سوال نمبر 19: حکومت جاپان اپنے ہر شہری کو ایک لاکھ ین کیسے فراہم کرے گا؟
سوال نمبر 20: کیا الکوحل کے مشروبات کو بطور سینیٹائزر استعمال کیا جا سکتا ہے؟
سوال نمبر 21: بغیر علامات والے کورونا وائرس کے مریض۔
سوال نمبر 22: ماسک کی افادیت۔
سوال نمبر 23: لفٹ استعمال کرنے میں احتیاط۔
سوال نمبر 24: مشترکہ گھر میں وائرس سے کیسے بچا جائے؟
سوال نمبر 25: گولف کھیلنے میں احتیاط۔

سوال نمبر 26->>




سوال نمبر 1:   کورونا وائرس کیا ہے؟

 
یہ وائرس انسانوں اور دیگر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ عام طور پر، یہ لوگوں کے درمیان پھیلتا ہے اور اس سے عام زکام کی علامات جیسے کھانسی، بخار اور ناک بہنا پیدا ہوتی ہیں۔ اس وائرس کی چند اقسام نمونیا یا دیگر سنگین علامات کا باعث بن سکتے ہیں مثال کے طور پر، مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم یا MERS نامی بیماری کا باعث بننے والی قسم، جس کی 2012 میں پہلی بار تصدیق سعودی عرب میں ہوئی تھی۔

عالمگیر وبا کا باعث بننے والا یہ وائرس کورونا کی نئی قسم ہے۔ متاثرہ افراد میں بخار، کھانسی، تھکاوٹ، بلغم، سانس لینے میں دقت، گلے کی سوزش اور سر درد جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

 تقریبا 80 فیصد مریض ہلکی علامات کا سامنا کرنے کے بعد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ تقریبا 20 فیصد مریضوں کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے نمونیا یا ایک سے زائد اندرونی اعضاء کا کام چھوڑ دینا۔ وہ لوگ جن کی عمر 60 برس سے زیادہ ہے، یا جو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں یا کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں،اُن کی حالت نازک ہوسکتی ہے یا ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ بچوں میں بھی انفیکشن کی اطلاع ملی ہے تاہم ان میں علامات نسبتا ًمعمولی ہیں۔




سوال نمبر 2: ہمیں وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے؟ اور ہم وائرس سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال ہے کہ موسمی فلو یا عام نزلہ کی طرح ، نئی کورونا وائرس  بھی منہ کے پانی یا آلودہ سطح کو چھونے سے منتقل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب متاثرہ افراد کھانستے یا چھینکتے ہیں تو اُن کے منہ سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے وائرس پھیلتا ہے۔ آلودہ دروازے کے دستے  یا ٹرین  میں لٹکے سہاروں کو چھونے اور پھر آلودہ ہاتھ سے ناک یا منہ کو چھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس میں موسمی فلو کی جتنی پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔


کوروناوائرس انفیکشن کی روک تھام کے بنیادی اقدامات وہی ہیں جو موسمی فلو کے خلاف اُٹھائے جاتے ہیں ، یعنی ، ہاتھ دھونے اور کھانسی کے آداب پر عمل پیرا ہونا۔

ہاتھ دھوتے وقت، لوگوں کو صابن استعمال کرنے اور ہاتھوں کے ہر حصے کو کلائی تک کم سے کم 20 سیکنڈ تک بہتے ہوئے پانی سے دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یا پھر الکحل کے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کیے جا سکتے ہیں ۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کا ایک اہم ذریعہ کھانسی کے آداب ہیں۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو آلودہ بوندوں سے  بچانے کے لئے ٹشو پیپر یا آستین سے اپنی ناک اور منہ کو ڈھانپ دیں۔ دیگر موثر اقدامات میں بھیڑ والی جگہوں سے اجتناب اور گھر کے اندر رہتے وقت، کمرے کو ہوا دار رکھنے کے لئے کھڑکیاں کھولنا شامل ہیں۔

جاپان میں ہر ریلوے کمپنی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ بھری مسافر ٹرینوں کی کھڑکیاں کھولیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرین ایک خاص حد تک پہلے ہی ہوادار ہوتے ہیں کیونکہ وہ اسٹیشنوں پر رک کر مسافروں کو اتارنےیا سوار کرنے کے لئے دروازے کھولتے رہتے ہیں۔




سوال نمبر 3: کرونا وائرس سے حاملہ خواتین کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

جاپان سوسائٹی برائے متعدی امراضِ زچہ و بچہ نے کرونا وائرس کے حوالے سے حاملہ اور ماں بننے کی خواہشمند خواتین کی رہنمائی کے لئے ایک دستاویز جاری کیا ہے۔

 سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اب تک حاملہ خواتین میں کورونا وائرس کی وجہ سے نسبتاً شدید علامات ظاہر ہونے یا ماں کے پیٹ میں بچے کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

 تاہم سوسائٹی متنبہ کرتی ہے کہ عموماً حاملہ خواتین کو اگر نمونیا ہو جائے تو وہ شدید بیمار ہو سکتی ہیں۔

یہ سوسائٹی حاملہ خواتین کو   خصوصاً باہر جاتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے بہتے پانی کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھونےاور الکوحل والے جراثیم کُش محلول  استعمال کرنے جیسے حفاظتی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیتی ہے۔ دیگر تجاویز میں بخار اور کھانسی میں مبتلا افراد کو چھونے سے پرہیز، حفاظتی ماسک پہننا اور ہاتھوں سے منہ یا ناک کو چھونے سے اجتناب شامل ہے۔

 یہ دستاویز مرتب کرنے والے نیہون یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے پروفیسر ساتوشی ہایا کاوا کہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حاملہ خواتین تذبذب کا شکار ہیں تاہم ایسی خواتین کو صرف درست اور قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر عمل کرنا چاہیئے کیونکہ متعدی امراض پھیلنے کی صورت میں ہر قسم کی غلط افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔




سوال نمبر 4: کپڑوں کو وائرس سے کیسے پاک کیا جائے؟

اس کے لئے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کپڑوں کو دھونے سےان پر موجود وائرس دھل جائے گا یا پھر اس مقصد کے لئے جراثیم کُش الکوحل استعمال کرنا پڑے گی۔ وبائی امراض کی روکتھام اور کنٹرول کے جاپانی ادارے کی ایریسا سُوگاوارا بتاتی ہیں کہ کپڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے جراثیم کُش الکوحل کی ضروت نہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ مروجہ طریقے سے کپڑے دھونے سے ان پر موجود وائرس دھل جاتا ہے۔ تاہم نیا کورونا وائرس بھی اس طریقے سے ختم ہو گا یا نہیں ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

جہاں تک اُن چیزوں کا تعلق ہے جن میں وائرس سے آلودہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو، مثلاً کھانستے یا چھینکتے وقت منہ پر رکھا جانے والے دستی رومال، ایسی اشیا کے بارے میں محترمہ سُوگا وارا کا مشورہ ہے کہ انہیں 15 سے 20 منٹ تک گرم پانی میں بھگوئیں۔




سوال نمبر 5: کورونا  وائرس  کا انفیکشن ہونے کے بعد کیا علامات ہوسکتی ہیں؟ 

ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس ٹیم میں عالمی ادارہ صحت کے ماہرین بھی شامل ہیں۔ اس ٹیم نے اُن 55،924 افراد کی علامتوں کا تفصیلی تجزیہ کیا جن میں 20 فروری تک چین میں انفیکشن ہونے کی تصدیق ہوگئی تھی۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 87.9 فیصد مریضوں کو بخار تھا، 67.7 فیصد کھانسی میں مبتلا تھے، 38.1 فیصد لوگوں کو تھکاوٹ کی شکایت تھی، اور 33.4 فیصد بلغم کا شکار تھے۔ دیگر علامات میں سانس میں دقت، گلے کی سوزش اور سر درد شامل ہیں۔ متاثرہ افراد میں اوسطاً پانچ سے چھ دن میں علامات نمودار ہوئیں۔

 متاثرہ افراد میں سے 80 فیصد میں علامات نسبتا ً معمولی تھیں۔ بعض لوگوں کو نمونیا نہیں ہوا ۔ متاثرہ افراد میں سے 13.8 فیصد شدید بیمار ہو گئے تھے اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد اور ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس ، دل کی بیماریوں، سانس کی دائمی بیماریوں اور کینسر جیسے بنیادی طبی مسائل کے حامل افراد میں سنگین یا مہلک علامات پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ بچوں میں انفیکشن ہونے یا شدید بیمار ہونے کی اطلاعات کم ہیں۔ متاثرہ افراد کی کل تعداد میں صرف 2.4 فیصد 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔

 نیشنل سینٹر برائے گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ڈاکٹر ساتوشی کوتسُونا نے جاپان میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا ہے۔ جناب کوتسونا نے بتایا کہ انہوں نے جن مریضوں کا معائنہ کیا وہ بہتی ناک، گلے کی سوزش اور کھانسی کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو تھکاوٹ کی شکایت تھی اور انہیں 37 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجے کا بخار ہوا جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ڈاکٹر کوتسُونا نے کہا کہ بعض مریضوں کا بخار ایک ہفتے کے بعد زیادہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمی فلو یا دیگر وائرل متعدی بیماریوں کے مقابلے میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ دیر تک رہتی ہیں۔




سوال نمبر 6: وائرس سے متاثر ہونے پر کن افراد میں شدید علامات پیدا ہوتی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بیشتر ایسے افراد ہیں جن کا مدافعتی نظام ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے کمزور ہوتا ہے ۔

اس لئے خصوصاً کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کو نہ صرف نئے کورونا وائرس سے بلکہ موسمی انفلوئنزا جیسے عام انفیکشن سے بھی بچنا چاہئے۔

ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماری لاحق ہو یا پھر ایسے افراد جو قوت مدافعت کم کرنے والی ادویات استعمال کررہے ہیں، مثال کے طور پر بزرگ افراد اور گٹھیا کے مرض کا علاج کرنے والے افراد۔

محققین نے ابھی یہ معلوم نہیں کیا ہے کہ مریضوں کے دائمی عارضے کی سنگینی کا ان کے علامات کی شدت سے کیا تعلق ہے۔

حاملہ خواتین کے حوالے سے ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں جس میں یہ تجویز کیا جائے کہ وہ کورونا وائرس کے لئے شدید خطرے کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن عام طور پر اُن میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اگر انھیں نمونیا ہو جائے تو ان میں شدید علامات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

شیرخوار بچوں میں کورونا وائرس کس قسم کی علامات کا سبب بنتا ہے اس کے بارے میں بھی کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اپنے ہاتھ دھونے اور ہجوم سے بچنے جیسے روک تھام کے اقدامات نہیں کرسکتے، ان کے سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔




سوال نمبر 7: کیا بچے کورونا وائرس سے شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

چین میں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ بچے نئے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعدشدید بیمار ہوسکتے ہیں۔

چینی مرکز برائے انسداد و روک تھامِ امراض کے ماہرین کی ایک ٹیم کے 11 فروری تک ملک میں متاثرہ 44،672 افراد کے تجزیےسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نو سال یا اس سے کم عمر کا کوئی بچہ اس انفیکشن سے ہلاک نہیں ہوا۔ صرف ایک ہی مریض کی نو عمری میں ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ووہان یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے محققین کے ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ 6 فروری تک مرکزی سرزمین چین میں ایک سے 11 ماہ کے 9 نوزائیدہ بچوں میں کورونا وائرس پایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شدید بیمار نہیں ہوا۔

آئیچی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر تسونیو موریشیما بچوں کے متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ پروفیسر موریشیما کا کہنا ہے کہ یہ نیا وائرس چند حوالوں سے کورونا وائرس کی موجودہ اقسام سے مطابقت رکھتاہے اور نزلہ زکام کا اکثر شکار رہنے والے بچوں میں اس کے خلاف ایک خاص مدافعت پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم، پروفیسر موریشیما نے مزید کہا کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ اسکولوں اور نرسری اسکولوں میں یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرپرستوں کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ بچے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں اور اُن کے کمرے مناسب حد تک ہوا دار ہوں۔

یہ اعدادوشمار 24 مارچ تک کے ہیں۔


یہ سوال انڈونیشیا سے ہمارے سامع نوردیان سیہا نے پوچھا ہے۔




سوال نمبر 8: کیا جاپان نے کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے کوئی موثر دوا بنائی ہے؟

بدقسمتی سے ابھی ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے جو کورونا وائرس کے خلاف واضح طور پر موثر ثابت ہو، جیسے انفلوئنزا کے علاج کے لئے تامیفلو اور زوفلوزانامی ادویات ہیں۔ دوسرے ممالک کی طرح جاپان میں بھی ڈاکٹر علامات کے علاج پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جیسے مریضوں کو آکسیجن کا سہارا دینا اور پانی کی کمی کے لئے IV ڈرپ لگانا۔

اگرچہ اس وائرس کو ختم کرنے کی کوئی موثر دوا ابھی تیار نہیں ہوئی ہے، جاپان اور پوری دنیا میں ڈاکٹر دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے دستیاب ادویات کا استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایسی ہی ایک دوا ایویگان ہے جو زکام کے علاج کے لئے موثر ہے اور جسے چھ سال قبل ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے تیار کیا تھا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں موثر ثابت ہوئی ہے۔

جاپان کے نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کا کہنا ہے کہ اُس نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو ایڈز کے اوائل میں استعمال ہونے والی ایک اینٹی وائرل دوا دی ہے۔ وہاں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مریض کا بخار کم ہوا اور تھکن اور سانس کی دقت بہتر ہوئی۔

مختلف ممالک میں موثر دوا بنانے پر تحقیق جاری ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز کے محققین سمیت ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس سے نمونیا  میں مبتلا ایک شخص کو ایبولا کی ایک اینٹی وائرل دوائی دی جارہی ہے۔ محققین نے بتایا کہ اس شخص کی علامات دوا لینے کےایک دن بعد ہی بہتر ہونا شروع ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے آکسیجن لگانے کی ضرورت نہ رہی اور اس کا بخار کم ہوگیا تھا۔

تھائی لینڈ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ فلو اور ایڈز کی دوائیوں کے امتزاج سے ایک مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے جو بعد میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہوگیا۔

تاہم،ان تمام واقعات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کے محفوظ استعمال اور افادیت کا تعین کرنے کے لئے مزید طبی تحقیق ضروری ہے۔

یہ اعداد و شمار 25 مارچ کی ہیں۔




سوال نمبر 10: ہم کن حالات میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انفیکشن ختم ہو گیا ہے؟

شیگیرُو اومی نئے کورونا وائرس کے بارے میں حکومتی ماہرین کے پینل کے نائب سربراہ اور جاپان کمیونٹی ہیلتھ کئیر آرگنائزیشن کے صدر ہیں ۔ وہ ماضی میں عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیو ایچ او، میں متعدی امراض کے خلاف اقدامات کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ انفیکشن کا سلسلہ رک گیا ہے اور کوئی متاثرہ مریض موجود نہیں ہے۔

اگر عالمی ادارہِ صحت کے معیار کے مطابق ایک مخصوص مدت کے دوران کسی نئے انفیکشن کی تصدیق نہ ہوئی ہو تو صحت حکام وبا کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر سارس نامی وباسنہ 2003 میں زیادہ تر چین اور ایشیا کے دیگر حصوں میں پھیلی۔ پہلے مریض کی تصدیق کے تقریباً 8 ماہ بعد ڈبلیو ایچ او نے اس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب کسی مخصوص علاقے یا ملک میں عوام کو باہر نکلنے سے احتراز کی ہدایات جیسے اقدامات کے ذریعے انفیکشن کے پھیلاؤ پر مخصوص عرصے کے لیے قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم علاقے کے باہر سے وائرس کے آنے سے انفیکشن دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موسمی انفلوئینزا موسم سرما میں پھیلتا ہے اور اس میں عارضی طور پر کمی آتی ہے لیکن ابھی تک اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

ویکسین اور ادویات، انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے اور اسکی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر ہیں۔ لیکن جناب اومی کا کہنا ہے کہ ویکسین اور ادویات کی دستیابی اور یہ کہ کیا مرض مکمل ختم ہو چکا ہے؟، دونوں الگ چیزیں ہیں۔

جناب اومی کا کہنا ہے کہ صحت حکام انفیکشن کے مکمل خاتمے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے اس کو محدود رکھنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

یہ اعداد و شمار 27 مارچ کے ہیں۔




سوال نمبر 11: کیا صابن اور الکوحل کے ایک جیسے جراثیم کش اثرات ہوتے ہیں؟

انفیکشن کنٹرول میں مہارت رکھنے والی ٹوکیو کے سینٹ لیوک انٹرنیشنل اسپتال کی ساکاموتو فومی کا کہنا ہے کہ صابن ایک خاص حد تک موثر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ صابن میں عام طور پر سرفیکٹنٹ ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کے بیرونی لیپڈ جھلی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس کو کسی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ الکوحل بھی موثر ہے لیکن اگر آپ کے ہاتھ گندے ہیں تو بعض اوقات جراثیمی ماد ے کے اندر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

محترمہ ساکاموتو لوگوں سے صابن کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کی تاکید کرتی ہیں۔




سوال نمبر 13: 2003 میں سارس نامی وائرس پھیلنے کے دوران، ہم نے سنا ہے کہ نالیوں سے پھوٹنے والے گندے پانی کے ذریعے وائرس پھیلنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم سارس کورونا وائرس سے مشابہت رکھتی ہے۔ تو آج کا سوال ہے، کیا نیا کورونا وائرس بھی گندے پانی سے پھیل سکتا ہے؟

یہ نیا وائرس اور سارس وائرس دونوں کا تعلق کورونا وائرس کے ایک ہی خاندان سے ہے۔ وہ کورونا وائرس جس کی وجہ سے سارس پیدا ہوا تھا، نہ صرف گلے اور پھیپھڑوں میں بلکہ آنتوں میں بھی اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ 2003 میں جب سارس وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں میں پھیل گیا، ہانگ کانگ کی ایک رہائشی عمارت میں بڑے پیمانے پر انفیکشن کی اطلاع ملی۔ یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بڑے پیمانے پر انفیکشن نکاسی آب کے پرانے پائپس سے خارج ہونے والی وائرس زدہ بوندوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

توہکو میڈیکل اینڈ فارماسیوٹیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کے ماہر پروفیسر کاکو میتسو نے بتایا کہ حفظان صحت کے نسبتاً اعلی درجے کے حامل ممالک میں نکاسی آب کے پائپوں کے ذریعے وائرس پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ وائرس بیت الخلا اور آس پاس کے مقامات کی سطح سے چمٹ جائے اور آپ اپنے ہاتھوں سے آلودہ سطح کو چھونے سے انفیکشن کا شکار ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو فلش کرنے سے پہلے کموڈ کا ڈھکن بند کرنا چاہئے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ نلکوں، واش اسٹینڈز اور دروازوں کے دستوں کو جراثیم کش محلول کے ساتھ اچھی طرح سے صاف کرکے لوگوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

یہ اعداد و شمار یکم اپریل کی ہیں۔




سوال نمبر 14:  کیا کورونا وائرس سے نوجوان افراد شدید بیمار پڑ سکتے ہیں؟

ماہرین کا خیال تھا کہ عمر رسیدہ اور صحت کے مسائل سے دوچار افراد میں انفیکشن کے بعد شدید علامات ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن گذشتہ ماہ میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ برطانیہ میں ایک 21 سالہ خاتون اور فرانس میں ایک 16 سالہ لڑکی کی اس وائرس سے موت ہوگئی ہے۔ یہ دونوں افراد پہلے سے بیمار بھی نہیں تھے۔ حالیہ کیسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نوجوان شدید بیمار ہو سکتے ہیں۔

جاپان میں بھی نسبتاً نوجوان افراد کے شدید بیمار ہونے کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ نیشنل سنٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے ساتوشی کوتسونا نے بتایا کی اُن 30 سے زائد مریضوں میں سے، جن کا انھوں نے علاج کیا، 40 کے پیٹے کے ایک شخص میں شدید علامات پیدا ہوئیں حتیٰ کہ اُس کو پہلے سے کوئی بیماری بھی نہیں تھی۔

جناب کوتسونا نے بتایا کہ اس شخص کو پہلے کئی دن تک صرف بخار اور کھانسی ہوئی لیکن ایک ہفتہ کے بعد اسے شدید نمونیا ہوگیا اور سانس لینے میں تیزی سے دشواری کے باعث اسے ریسپائریٹر کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شخص بعد میں صحتیاب ہوا۔

جناب کوتسونا نے ہمیں بتایا کہ نوجوانوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اُنہیں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ نوجوان افراد بھی شدید بیمار پڑ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جن میں 50 سال سے کم عمر کے افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز نے اطلاع دی ہے کہ 20 سے 44 سال کی عمر والے 2 سے 4 فیصد متاثرہ افراد انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں۔

یہ اعداد و شمار 2 اپریل تک کی ہیں۔




سوال نمبر 15: کیا یہ وائرس چینی شہر ووہان، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں تغیر پذیر ہو رہا ہے۔

مارچ کے اوائل میں ایک چینی ریسرچ گروپ نے دنیا بھر کے 100 سے زائد مریضوں سے لیے گئے کورونا وائرس کے جینز کا تجزیہ کیا۔ ٹیم نے دو اقسام کی کورونا وائرس جینز ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ میں فرق دریافت کیا۔

گروپ نے معلوم کیا کہ ایس ٹائپ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس سے ملتی جلتی جینیاتی ترتیب ہوتی ہے۔ ایل ٹائپ کا وائرس یورپی ممالک کے مریضوں میں عام طور پر پایا گیا تھا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایس ٹائپ سے مختلف اس وائرس کی ایک نئی شکل ہے۔

ریتسومیکن یونیورسٹی کالج آف لائف سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ایتو ماساہیرو جو وائرس کی خصوصیات کا مطالعہ کررہے ہیں کہتے ہیں کہ کورونا وائرس آسانی سے اپنے اندر تبدیلی لاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتے اور وائرس کے بار بار پھیلاؤ کے دوران بھی اپنے متغیر ہوتا ہے۔

دریں اثنا وائرس آسانی سے منتقل ہونے کے قابل بننے کے لئے خود میں تبدیلی لانے کے امکان کے بارے میں جناب ایتو کا کہنا ہے کہ وائرس اب بھی اس مرحلے پر ہے جہاں اس کے جینیاتی ترتیب میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر ایل ٹائپ اور ایس ٹائپ کے جینز میں فرق موجود ہے تو پھر بھی ان معلومات کا فقدان ہے کہ کون سی قسم زیادہ شدید علامات کا باعث بنتی ہے۔ جناب ایتو کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیماریوں کی شدت اور اموات کی شرح ممالک کے مابین مختلف ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تغیرات خود لوگوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں جس میں کسی ملک کی معمر آبادی کا تناسب، ثقافت اور کھانے کی عادات میں فرق شامل ہے۔

یہ اعداد و شمار 3 اپریل کی ہیں۔




سوال نمبر 16: ایویگان نامی دوا کورونا وائرس کے علاج میں کتنی مؤثر ہے؟

ایویگان کو فاویپیراویر بھی کہا جاتا ہے اور یہ نزلہ زکام کی دوا ہے جسے ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے چھ سال قبل تیار کیا تھا۔ لیبارٹری میں آزمائش کے دوران جانوروں پر مضر اثرات کی اطلاع ملی ہے لہذا جاپانی حکومت نے حاملہ خواتین جیسے کچھ لوگوں پر اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی ہے۔ اب صرف حکومت کی طرف سے منظور شدہ کیسز میں ہی ایویگان کو نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دیا جائے گا۔

ابھی تک ایسی کوئی اور معلوم دوا موجود نہیں ہے جو نئے کورونا وائرس کے مریضوں کا مؤثر طریقے سے علاج کر سکیں لیکن امید ہے کہ نئے کورونا وائرس کے خلاف ایویگان موثر ثابت ہوگا جو انفلوئنزا وائرس کی طرح بڑھتا ہے۔ دنیا کے بہت سارے حصوں میں اس دوا کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے۔

چینی حکومت نے دو طبی اداروں میں ہونے والی تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ایک تحقیق صوبہ گوانگ دونگ کے شینزین شہر میں 80 مریضوں پر کی گئی۔ جن لوگوں کو ایویگان نہیں دی گئی تھی، انکے ٹیسٹ کے نتائج مثبت سے منفی ہونے میں اوسطاً 11 دن لگے۔ جن افراد کو دوا دی گئی اُن کو اوسطاً چار دن لگے۔ مریضوں کی ایکس رے سے پتہ چلتا ہے کہ 62 فیصد ان افراد کی پھیپھڑوں کی حالت بہتر ہوئی جن کو ایویگان نہیں دی گئی جبکہ ایویگان استعمال کرنے والے افراد میں سے 91 فیصد کے پھیپھڑے بہتر ہوئے۔

چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نتائج نے اسے نئے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے ایویگان کو باضابطہ طور پر ایک دوا کے طور پر شامل کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔

جاپان میں مارچ کے مہینے سے آئیچی پریفیکچر کے فوجیتا ہیلتھ یونیورسٹی ہسپتال جیسے اداروں میں ہلکی علامات یا علامات سے پاک 80 مریضوں پر طبی تحقیق جاری ہے۔ محققین موازنہ کر رہے ہیں کہ دوائی وائرس کے حجم کو کتنا کم کرسکتی ہے۔

ایویگان تیار کرنے والی جاپانی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری منظوری حاصل کرنے کے لئے کلینیکل ٹرائلز شروع کردیئے ہیں۔ اگر دوا کی تاثیر اور حفاظت کی تصدیق ہو گئی تو کمپنی حکومت کو منظوری کے لئے درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ اعداد و شمار 6 اپریل کی ہیں۔





سوال نمبر 17: ہنگامی حالت کا اعلان ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

اس سوال کے جواب کے کئی حصے ہیں۔ پہلے باہر گھومنے پھرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

مقررہ پریفیکچروں کے گورنر نامزد علاقوں کے رہائشیوں سے ایک مقررہ مدت تک غیر ضروری کام کے لئے باہر جانے سے باز رہنے کو کہہ سکتے ہیں۔

ان میں ہسپتال جانا، ضروریات زندگی کی خریداری اور کام پر جانا شامل نہیں۔ درخواست پر عمل لازمی نہیں ہے لیکن شہری تعاون کرنے اور پوری کوشش کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

دوسرا حصہ اسکولوں کے بارے میں ہے۔

گورنر اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ گذشتہ ماہ نافذ کردہ خصوصی قانون پر مبنی احکامات ہیں۔

گورنروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پریفیکچر کے ہائی اسکول بند کردیں۔

وہ مقامی حکومتوں کے زیر نگرانی نجی اسکولوں اور ایلی منٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں کو بند کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں نے تعمیل نہ کی تو وہ بندش کا حکم بھی دے سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی جرمانہ شامل نہیں ہے۔

اگلا حصہ سہولیات اور اسٹورز کے بارے میں ہے۔

یہ قانون گورنرز کو انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے کے لئے سہولیات کے استعمال کو محدود کرنے کی درخواست کرنے کے اہل بناتا ہے۔

وہ بڑے پیمانے کے ان سہولیات کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کا بھی کہہ سکتے ہیں جن کا کُل رقبہ ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو اس سے چھوٹی سہولیات کو بھی ایسا ہی حکم دیا جا سکتا ہے۔

مندرجہ ذیل اُن سہولیات کی فہرست ہے جو اس زمرے میں آتی ہیں۔ تھیٹر اور سنیما گھر، مقامات برائے تقاریب، ڈپارٹمنٹ اسٹور، سپر مارکیٹ، ہوٹل اور سرائے، جم اور سوئمنگ پول، عجائب گھر، لائبریری، نائٹ کلب، ڈرائیونگ اسکول اور ٹیوشن اسکول۔

سپر مارکیٹوں کو اشیائے ضروریہ جیسے کھانے، دوا اور حفظان صحت کے لئے مخصوص حصے کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

اگر بعض سہولیات درخواست کی تعمیل نہیں کرتی ہیں تو گورنر انہیں ایسا کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

وہ ان سہولیات کے نام مشتہر کریں گے جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

یہ حصہ تقریبات اور میلوں سے متعلق ہے۔

نئی قانون سازی کے تحت، گورنر ایونٹ کے منتظمین سے تقریبات کا انعقاد نہ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ اگر کسی منتظم نے تعمیل نہیں کی تو وہ انہیں روکنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

گورنر پریفیکچر کی ویب سائٹ یا دیگر میڈیا پر اُن منتظمین کے نام مشتہر کر سکتے ہیں جن کو ایسا حکم دیا گیا ہو۔

رہائشی سہولیات اور خدمات

ہنگامی حالت کے اعلان سے ضروری رہائشی سہولیات متاثر نہیں ہوتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات پر عمل درآمد کریں۔

ٹرانسپورٹ، ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور ڈاک سے متعلق کمپنیوں کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

اس قانون میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کام کو محدود کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم اور گورنرز کم سے کم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا نظام چلانے کے اقدامات اُٹھا سکتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار 7 اپریل تک کی ہیں۔




سوال نمبر 18: ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کیا ہوتا ہے؟

پہلے بات کرتے ہیں ماسک کے بارے میں جن کی جاپان میں دستیابی دن بہ دن  مشکل ہو رہی ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق خصوصی اقدامات کے قانون کی بنیاد پر گورنر کمپنیوں سے مقامی حکومت کو ماسک اور دیگر ضروری سامان فروخت کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ اگر کمپنیاں ایسی  درخواست پر عمل کرنے سے انکار کردیں تو گورنر کو اس طرح کا سامان ضبط کرنے کی اجازت ہے۔

مرکزی حکومت نے پہلے ہی ہوکائیدو میں لوگوں کو ایک علیحدہ قانون، عوام کے حالات زندگی کو مستحکم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کے لئے 1973 کا ایکٹ، کی بنیاد پر لوگوں اور طبی اداروں کو ماسک خرید کر دیئے  ہیں ۔ یہ قانون تیل کے عالمی بحران کے پیش نظر نافذ کیا گیا تھا ۔

ہنگامی حالت میں گورنروں کو قانونی طور پر قابل نفاذ بعض اقدامات اٹھانے کی بھی اجازت ملتی ہے۔ عارضی طبی سہولیات کی تعمیر کے لئے گورنر مالکان کی رضامندی کے بغیر زمین اور عمارتیں استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ کمپنیوں کو طبی سامان، کھانا اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

اگر کمپنیاں حکم کی تعمیل نہیں کرتے اورمثال کے طور پر مصنوعات کو چھپاتے یا پھینکتےہیں تو  انھیں چھ ماہ تک قید کی سزا یا تقریبا 2800ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ صرف ان دو اقدامات میں سزا  بھی شامل ہیں۔

جاپان کے ہنگامی حالت میں بیرون ممالک میں نافذ  لاک ڈاون کے برعکس چند قابل عمل اقدامات شامل ہیں ۔ لیکن اس اعلان سے عوام اور کاروباری اداروں کو اس وباء پر قابو پانے کی کوشش میں تعاون کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اس سے جاپان کی طبی خدمات پر کیا اثر پڑے گا؟

میڈیکل ادارے ان سہولیات میں شامل نہیں ہیں جن کو گورنر بند کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں  لہذا وہ کھلے رہیں گے۔ نیز ، ہسپتال جانا ضروری سفر سمجھا جاتا ہے جس پر "گھر میں رہیں" درخواست کے تحت بھی پابندی نہیں ہوگی۔ تاہم مقامی حکومتیں اس وباء کی شدید ترین صورتحال پر مبنی تیاری کے لئے انتظامات کریں گی، جیسے اُن مراکز کا انتخاب کرنا جو بنیادی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص ہو اور دوسرے مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنا ۔ جاپان کی وزارت صحت بھی ڈاکٹر کے ساتھ آن لائن مشاورت کے لئے مطلوبہ لوازمات آسان بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فی الحال ، ڈاکٹر سے روبرو ملاقات کے بعد ہی آن لائن مشاورتیں شروع ہوسکتی ہیں۔ لیکن وزارت شروع سے ہی آن لائن علاج کی اجازت دے گی۔

طبی دیکھ بھال کے مراکز کیسے متاثر ہونگے؟

ہنگامی حالت کے تابع صوبوں کے گورنر طبی دیکھ بھال  کی اُن سہولیات کی بندش اور عوامل مختصر کرنے  کی درخواست کرسکتے ہیں جو دن کی دیکھ بھال اور قلیل قیام کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ نگہداشت فراہم کرنے والے جو ادارے  اپنی سہولیات بند کر رہے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ وہ ضروری متبادل خدمات کی فراہمی جاری رکھیں ، جیسے کہ صارفین کے گھروں پر عملہ بھیجنا۔ گورنر دیکھ بھال کی رہائشی سہولیات اور گھریلو نگہداشت فراہم کرنے والوں کی بندش کا مطالبہ نہیں کرسکتے ہیں۔ ان اداروں سے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھنے کو کہا گیا ہے۔

چائلڈ ڈے کیئر سہولیات کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟

اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہو تو گورنر چائلڈ ڈے کیئر سنٹروں کے استعمال کو محدود کرسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایسی سہولیات کو عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

حتی کہ گورنر کی درخواست کے بغیر بھی ، نامزد علاقوں میں ہر میونسپلٹی اپنے قبول کردہ بچوں کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت پر غور کر سکتی ہے۔ جو والدین گھر سے کام کر سکتے ہیں یا چھٹی لے سکتے ہیں ان سے ڈے کیئر استعمال نہ کرنے کا کہا جائے گا۔ اگر کوئی بچہ یا نگہداشت کرنے والا متاثر ہوتا ہے یا جب اس علاقے میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو بلدیات کے پاس بھی عارضی طور پر ڈے کیئر سہولیات بند کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تاہم ، مقامی حکومتیں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں یا  ایسے والدین جو کام سے وقت نکالنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں یا ایسے لوگوں کے لئے بچوں کی نگہداشت کی فراہمی کے دیگر طریقوں کا مطالعہ کریں گی جن کا کام معاشرے کو چلانے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے  ۔
 
اس کے بعد آتے ہیں مزدوری معیارات کے معائنہ کے دفاتر اور ملازمت کی تقرری مراکز۔

اصولی طور پر، روزگار سے وابستہ خدشات سے نمٹنے والی یہ سہولیات معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔ تاہم ، ملازمت کےتقرری کے مراکز ہر علاقے میں انفیکشن کی صورتحال کے لحاظ سے اپنے کاموں کو کم کرسکتے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کا کیا ہوگا؟

7 اپریل کو وزیر اعظم آبے شنزو کے ہنگامی حالت کے اعلان سے قبل ، وزیر ٹرانسپورٹ ، اکابا کازویویشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر ہنگامی حالت کا اعلان کر بھی دیا گیا ، تو پھر بھی کام کو برقرار رکھنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ اور رسد کی ضرورت ہوگی۔

یہاں پیش کردہ اعداد و شمار 8 اپریل کے ہیں۔




سوال نمبر 19: حکومت جاپان اپنے ہر شہری کو ایک لاکھ ین کیسے فراہم کرے گا؟

حکومت جاپان نے کورونا وائرس کی وبا سے متعلق اپنے معاشی اقدامات کے سلسلے میں تمام رہائشیوں کو فی کس ایک لاکھ ین نقد دینے کے منصوبے کی تفصیلات کا خاکہ پیش کر دیا ہے۔

یہ رقم شہریت سے قطع نظر ہر اس فرد کو دی جائے گی جسکا جاپان کی بنیادی رہائشی رجسٹری میں اندراج ہے۔

وزیر اندرونی امور تاکاایچی سانائے نے 20 اپریل کو ایک اخباری کانفرنس میں اس پروگرام کا خاکہ پیش کیا۔
 
جناب تاکاچی نے کہا کہ ہینڈ آؤٹ جلد از جلد تقسیم کردیئے جائیں گے۔

بلدیہ کے دفاتر میں انفیکشن کی روک تھام اور دفتری کام کو کم سے کم کرنے کیلئے بغیر کسی شخصی رابطہ کے درخواستیں اور ادائیگیاں کی جائیں گی۔

ہر وہ فرد جس کا نام 27 اپریل کو جاپان کی بنیادی رہائشی رجسٹری میں موجود ہے، اس رقم کا حقدار ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ جاپانی رہائشیوں کے ساتھ ساتھ وہ غیر ملکی بھی اس پروگرام کے تحت آتے ہیں جو رہائشی کی حیثیت سے درج ہیں اور انکے ویزے کی میعاد تین ماہ سے زائد ہے۔

بلدیات ہر گھرانے کے سربراہ کو درخواست کا فارم ارسال کریں گی۔ درخواست گزار کو اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر اور شناخت نامے کی کاپی کے ساتھ بینک کی تفصیلات فراہم کرنا ہونگی، جس کے بعد رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔

لوگ اپنے انفرادی شناختی نظام ’’مائی نمبر کارڈ‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

ہر بلدیہ اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ کب درخواستیں وصول کرنا اور کب ادائیگیاں کرنا شروع کرے گی۔  درخواستیں تین ماہ کی مدت میں وصول کی جائیں گی۔

یہ اعداد و شمار 22 اپریل کی ہیں۔




سوال نمبر 20: کیا الکوحل کے مشروبات کو بطور سینیٹائزر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جاپان کی وزارت صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ الکوحل کے مشروبات کو سینیٹائزر کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سینیٹائزر کی قلت کو پورا کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ طبی اور نگہداشت کے اداروں کے مطالبے پر لیا گیا ہے جو الکوحل سے بنے جراثیم کُش سے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزارت نے ان اداروں کو اپریل میں بتایا تھا کہ اگر انہیں مناسب سینیٹائزر نہیں مل پائے تو مشروبات بنانے والوں کے تیار کردہ شراب میں سے تیز الکحل والے مشروبات استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

الکوحل کی 70 سے 83 فیصد تک کثافت والی شراب استعمال کی جاسکتی ہے۔ بعض ووڈکا اس زمرے میں آتے ہیں۔

وزارت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سے زائد کثافت کے مشروب میں صفائی کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور انہیں استعمال سے قبل ہلکا کر دینا چاہئے۔

وزارت کے عہدیداروں نے زور دے کر کہا ہے کہ بنیادی طور پر طبی اداروں میں سینیٹائزر کی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

وہ عوام سے اپیل کررہے ہیں کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے گھر میں محتاط انداز میں ہاتھ دھونے کا عمل جاری رکھیں۔

یہ اعداد و شمار 27 اپریل تک کی ہیں۔




سوال نمبر 21: بغیر علامات والے کورونا وائرس کے مریض۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی امراض کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال کورونا وائرس کے اُن مریضوں کے بارے میں ہے جن میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے باوجود علامات ظاہر نہیں ہوتے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض مریض بغیر کوئی علامت ظاہر کیے خود ہی صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ چین کی ایک تحقیقی ٹیم کے مطابق سروے میں شامل نصف مریضوں میں یا تو کوئی علامت ظاہر ہی نہیں ہوئی یا پھر بہت ہی ہلکی علامات ظاہر ہوئیں۔ تاہم، محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ ہمیں تقریبا ایک ہفتہ مریضوں کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض آہستہ آہستہ شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔




سوال نمبر 22: ماسک کی افادیت۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ڈسپوز ایبل ماسک کی افادیت اور سوتی کپڑے سے بنے دھونے کے قابل اور دوبارہ قابل استعمال ماسک سے متعلق ہے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مختلف تجربات جاری ہیں کہ کس طرح ماسک وائرس سے بچنے میں معاون ہیں. تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ کھانسی اور چھینک آنے پر آپ کے منہ سے نکلنے والی بوندیں روکنے کیلئے مختلف ماسک ایک حد تک موثر ہوتے ہیں۔ تاہم محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح سے یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور تھوڑی مقدار میں بوندیں باہر پھیل سکتی ہے۔ لہذا جب آپ کو کھانسنے اور چھینکنے کی شکایت ہو تو باہر جانے سے گریز زیادہ محفوظ ہے۔




سوال نمبر 23: لفٹ استعمال کرنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال اُن چیزوں کے بارے میں ہے جن پر ہمیں لفٹ استعمال کرتے وقت دھیان دینا چاہئے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ چونکہ عمارتوں کی دسویں یا بیسویں منزل پر جانے کے لئے سیڑھیاں استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا ہم انفیکشن سے بچنے کے لئے یہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ لفٹ استعمال نہ کریں اور لفٹ میں چڑھنے کے دوران لوگوں سے بات کرنے سے گریز کریں۔ اس طرح کے اقدامات سے انفیکشن کے امکانات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ ساکاموتو کا مزید کہنا ہے کہ لفٹ کے بٹن دبانے کے بعد اپنے چہرے کو ہاتھوں سے نہ چھونا بہت اہم ہے۔ بٹن چھونے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا بھی ضروری ہے۔




سوال نمبر 24: مشترکہ گھر میں وائرس سے کیسے بچا جائے؟

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ ایسی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے جب ایک مشترکہ گھر میں رہنے والے افراد وائرس سے متاثر ہو جائیں۔

مشترکہ گھر میں رہنے والے ہر فرد کے پاس ذاتی بیڈ روم موجود ہوتا ہے تاہم وہ باورچی خانہ اور واش روم مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ اہم کام یہ ہے کہ کثرت سے چھوئے جانے والے مقامات، جیسے نلکے یا بلب وغیرہ کے بٹن کو ہلکے ڈٹرجنٹ یا اگر دستیاب ہو تو الکحل والے ڈس انفیکٹینٹ کے ساتھ جراثیم سے پاک کیا جائے۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔




سوال نمبر 25: گولف کھیلنے میں احتیاط۔

جاپان کے سینٹ لُوکس انٹرنیشنل ہسپتال میں متعدی بیماریوں کی ماہر، محترمہ ساکاموتو فومی اے، نئے کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات دے رہی ہیں۔

آج کا سوال ہے کہ گولف کورس میں کس طرح محتاط رہا جائے۔

محترمہ ساکاموتو کا کہنا ہے کہ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ گولف کھیلتے وقت انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اسے کھلے ماحول میں کھیلا جاتا ہے۔ لیکن، بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ گولف کھیلنا بہت خطرناک ہے۔ گولف کورس کھلے میدان میں ہوتا ہے اور اسے بند جگہوں پر بنانا ناممکن ہے۔ تاہم ایک بڑے گروپ کی شکل میں لاکر رومز استعمال کرنا یا مل جُل کر کھانا کھانے سے یہ خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے کے بعد انفیکشن کے خطرے سے محتاط رہنا ہوگا خاص طور پر جب ہم نے اُن مقامات کو چھوا ہو جنہیں کئی نامعلوم افراد ہاتھ لگا چکے ہوں۔

ان معلومات کو این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ یا این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔